Poet - Zeeshan Ameer Saleemi
دھوپ نے چھین لی چھاؤں کی آبرو
کیا بچائیں گے ہم سایۂ آرزو؟
وقت کی راکھ میں دفن ہیں کچھ کلام
جن سے اٹھتی ہے خوابوں کی یہ گفتگو
آئنے نے بھی انکار کر ہی دیا
جب نظر ہو گئی آئینہ خاک خو
دل پہ تحریر تھی رات کی داستاں
غم کو اشکوں سے کہتے رہے مو بہ مو
خواب بکھرے تو آنکھوں میں جلنے لگے
یاد کی دھوپ میں، بڑھ گئی جستجو
زخم کہتا رہا، خون بہتا رہا
عشق کی رہگزر، ہو گئی بے وضو
نام ذیشانؔ کا، لب پہ کم آ سکا
یاد میں ڈھل گئی دل کی سب آرزو
اردو غزل کی بزم میں اگر آج بھی کوئی شاعر احساس کی شمعیں روشن کیے بیٹھا ہے تو وہ ذیشانؔ امیر سلیمی ہیں، جن کے یہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں، درد اور خواب کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں ذیشانؔ کا ہر شعر دل کی وادیوں میں اتر کر مانوس احساسات کو ایک نئے رنگ سے تعبیر کرتا ہے ان کی تازہ غزل بھی اسی روایت کی امین ہے خواب، آئینہ، دھوپ، سایہ، اور آرزو سبھی ایک دوسرے کے سنگ ہو کر روح کی کہانی کہتے ہیں۔
غزل کا پہلا شعر ہی شاعر کے داخلی تجربے کو منظرِ عام پر لے آتا ہے
یہاں دھوپ، چھاؤں اور آرزو اپنی جگہ کوئی پیکرِ خیال نہیں بلکہ انسانی تجربے کی گواہی دیتے ہوئے چلتی تصویریں ہیں دھوپ چھین لیتی ہے تو چھاؤں کتنی بے بس ہوئی ہوگی؟ مگر یہی بے بسی شاعر کی آرزو کو جنم دیتی ہے کتنا خوبصورتی سے تعبیر کی گئی ہے یہ کشمکش روشنی اور سایہ کے درمیاں پنپتا انسان
ایک اور شعر ملاحظہ ہو، جہاں شاعر آئینے کی زبان میں خود سے مکالمہ کرتا ہے
یہاں آئینہ محض عکس دکھانے والا شفاف شیشہ نہیں، بلکہ زمانے کا ایک کڑوا سچ، جو انسان کی داخلی شکستگی پر پردہ نہیں ڈال سکتا یہ شعر اظہار کی معراج پہ ہے۔
غزل کے وسط میں، شاعر کا اشکوں سے مکالمہ دل کی گہرائیوں کو چھوتا محسوس ہوتا ہے:
ہر لفظ ایک قطرے کی صورت بہتا ہے۔ یہاں اشک لفظوں کی جگہ نہیں لیتے، بلکہ لفظوں کے خاموش ہونے کے بعد، دل کی باطنی گفتگو کے سفیر بن جاتے ہیں۔
غزل کا اختتام شاعر کی ذات، نام اور یاد کے پیکر میں لپٹا ہوا ہے
کیا خوب منظرِ دل ہے! جہاں نام بھی اک سانس سے زیادہ نہیں ہوتا، مگر یاد وہ اہتمام ہے جو زندگی بھر کی آرزوؤں میں تحلیل رہتا ہے ذیشانؔ اپنے فن میں خود اپنا استعارہ ہو گئے ہیں کم گو مگر اثر خیز، خاموش مگر دل نشیں۔
ذیشانؔ امیر سلیمی کے یہاں روایت کوئی پرانی قوس نہیں، بلکہ وہ طرزِ احساس ہے جسے اُنہوں نے عصری شعور کے ساتھ گوندھ کر نئی آواز دی ہے کلاسیکی اردو غزل کی روح ان کے کلام میں سانس لیتی نظر آتی ہے، وہیں جدید دنیا کا زخم اور خواب بھی ان کے الفاظ میں ہم کلام ہوتے ہیں۔
ان کی غزلیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے لفظوں نے سجدہ کیا ہو، اور خیال نے عبادت وہ شاعر جس کا کلام دل کی خاموش خواہشوں اور وقت کی دھول میں چھپے سچ کو آواز دیتا ہے، یقیناً عصری ادب میں نمایاں مقام کا حق دار ہے۔


Comments
Post a Comment