Zeeshan Ameer Saleemi Famous Ghazal
ذیشانؔ امیر سلیمی کی ایک نہایت معروف کلاسیکی غزل
غزل
مرے خوابِ دل کی بساط پر، جو فراق بن کے وبال رکھ
اسے صبرِ شب کا قرینہ جان، نہ وقت سے بھی سوال رکھ
مرے حالِ جاں کی کتاب پر، لکھا کوئی باب فراق نے
اسے دردِ شب کی حنا سمجھ، نہ چراغِ شہر میں ڈال رکھ
مرے نام جو نہ لیا گیا، وہی درد سب سے قریب تھا
اسے آبروئے سوال جان، لبوں کو ضبط میں ڈھال رکھ
مرے عشق کی یہ جو کج ادائی، قرارِ ذات کا بار ہے
اسے اپنی زلفِ خیال میں، تو بنا کے راز سنبھال رکھ
مرے صبرِ دل کی لکیر پر، جو عذابِ عشق اتر گیا
اسے کربِ جاں کا کمال جان، نہ حرفِ شکوہ بحال رکھ
مرے داغِ وقت کی دھوپ میں، جو گمانِ فصل چمک اٹھا
اسے آبِ دیدہ کی اوٹ دے، نہ صدا بنا کے اچھال رکھ
مرے موسمِ جاں کی شام میں، جو اداسیوں نے بسیج کی
اسے وقت بھر کی تھکن نہ دے، ذرا خامشی میں نڈھال رکھ
مرے زرد پتّوں کی راکھ سے، جو گلاب یادوں کا کھل اٹھا
اسے لمسِ بادِ خزاں نہ دے، کسی دل کی مٹھی میں پال رکھ
تری قربتوں کی حرارتیں، مری سرد جاں کو جلا گئیں
نہ انہیں سخن میں ہی ڈھال دے، انہیں لمس کی سی مثال رکھ
ترے ہونٹ جو ہلے یوں لگا، کوئی صبحِ دل سی اتر گئی
اسے لمسِ شوق کی تاب دے، کسی سانس میں ہی سنبھال رکھ
مرے دل کی بند سی مٹھی میں، جو دعا سی کانپ کے رہ گئی
اسے خوفِ حرف میں مت چھپا، ذرا درد بن کے اُبال رکھ
مرے دیدۂ جاں کے آئینے میں، جو حسن بن کے نکھر گیا
اسے نورِ حق کی ادا سمجھ، نہ نظر کی دھول میں ڈال رکھ
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment