ذیشان امیر سلیمی کی شاعری
ذیشان امیر سلیمی کی شاعری میں ہجر کی خوشبو اور وصل کی روشنی
ذیشان امیر سلیمی کا نام آتے ہی ذہن میں ہجر کی تپش اور وصل کی نمی کا ایک ایسا سنگم ابھرتا ہے جو اردو غزل کے کلاسیکی ورثے کو نئے دور کی روشنی میں لپیٹ کر سامنے لاتا ہے ان کی شاعری میں ایک عجیب سی کشش ہے نہ وہ عروض کے طلسم میں قید ہو کر رہتے ہیں نہ محض جدیدیت کا شور مچاتے ہیں ان کا کلام ایک ایسے موسم کی مانند ہے جہاں غم کی رم جھم بھی ہے اور امید کی دھوپ بھی
ہجرنامہ ان کا وہ شعری مجموعہ ہے جسے پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ ہر غزل میں ایک نیا جہاں آباد ہے ہجر کے درد کو وہ اس انداز سے بیاں کرتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے جدائی بھی کسی مہربان استاد کی طرح انسان کو اپنے اندر کی حقیقتوں سے روشناس کرا رہی ہو ذیشان کی شاعری میں ہجر محض فراق کا دوسرا نام نہیں بلکہ ایک دریچہ ہے جو دل کے اندر چھپے وصل کی جانب کھلتا ہے
ان کے کلام میں جذبات اس قدر شفاف ہیں کہ قاری خود کو اس خیال کے آئینے میں دیکھنے لگتا ہے کہیں وہ بچھڑے لمحوں کی خاک اڑاتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں وصل کی ہلکی سی خوشبو فضا میں پھیلتی محسوس ہوتی ہے یہ کیفیت ان کے اشعار کو صرف پڑھنے کا نہیں بلکہ جینے کا تجربہ بنا دیتی ہے
ذیشان امیر سلیمی نے الفاظ میں وہ دل کی دھڑکن شامل کر دی ہے جو ہر عمر کے قاری کو متاثر کرتی ہے ان کی شاعری کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ ہر اس دل کی زبان ہے جو کبھی بچھڑا کبھی ملا کبھی رویا کبھی مسکرایا ان کے یہاں غزل کی روح محفوظ بھی ہے اور نکھری ہوئی بھی یہی خصوصیت انہیں آج کے شعری منظرنامے میں نمایاں کرتی ہے وہ ہجر کو اداسی کے بجائے ایک تخلیقی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں اور وصل کو نغمگی کے ساتھ ساتھ فکرو احساس کی جڑوں سے جوڑتے ہیں
ہجرنامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ غزل ابھی زندہ ہے نہ صرف کاغذ پر بلکہ دلوں میں بھی وہ اپنے لہجے کی ندرت سادگی کی گہرائی اور جذبے کی صداقت کے سبب اردو شاعری کے میدان میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور ان کا تخلیقی سفر جاری ہے


Comments
Post a Comment