شاعر ذیشانؔ امیر سلیمی



 


میری کہکشاں  میں  یہ طُولِ ہجر ہے سخت

دِل  کی  گہرائی   میں  اُصولِ  ہجر ہے سخت


ذرّے ذرّے میں ہے تَراپِ رُوحِ جمال

جلوۂ حُسن و جاں پہ دُخولِ ہجر ہے سخت


چاند   کے  حلقۂ ضَو میں صُبح  کا  ہے  قطرہ

روشنی کے یہ بدن پہ نُزُولِ ہجر ہے سخت


ابر  کی نغمہ سُخن  میں   صدائے  یاد  اُٹھے

قطرۂ خُونِ  جگر  پہ  قُبولِ  ہجر   ہے سخت


زُلف   کی   تیرگی  میں  کمال  کا ہے   یہ  سفر

روشنی کی کرنوں میں حُصولِ ہجر ہے سخت


جسم   کی  خوشبوؤں   میں  بکھر  گئی  بیتابی

روح  کی  گہرائی  کو  دُخولِ  ہجر ہے سخت


اس  رخِ گردِ سحر  میں  چراغِ  گلاب جلے

دید کی محفل پر بھی نُزُولِ  ہجر ہے سخت


قسمتِ شب میں بہتی ہے جستجو  کی لہریں

یار  کی  جانب   گامِ  وصولِ  ہجر  ہے سخت


دل   رنجور    کو   لے   آیا    بہا  کے   ذیشانؔ

یاد کے صحرا میں بھی وصولِ ہجر ہے سخت


یہ غزل  ذیشانؔ امیر سلیمی کی فکری گہرائی اور ادبی شعور کی روشن مثال ہے اس غزل میں ہجر اور جمال کے بیچ سفر کرنے والا ایک ایسا تخلیقی شاعر سامنے آتا ہے جو درد کو بھی فن کا روپ دے دیتا ہے لفظوں کا انتخاب اور خیال کی ترتیب بتاتی ہے کہ شاعر نے نہ صرف روایت کی پاسداری کی ہے بلکہ اپنے لہجے کو ایک منفرد پہچان بھی بخشی ہے

ذیشانؔ امیر کا کلام ہجر کی بنیاد پر تعمیر ہوتا ہے مگر اس میں سوز کے ساتھ ساتھ روشنی کی کرن بھی چھپی رہتی ہے ہر شعر ایک کائنات ہے ہر خیال احساس کا ایک دروازہ کھولتا ہے اور ہر لفظ اس کی فنی سنجیدگی اور زبان کی پختگی کی گواہی دیتا ہے دل کی گہرائی ہو یا روح کی لطافت ذیشان امیر دونوں کو ایک ہی سانس میں سمو دیتے ہیں

اس غزل میں کہیں رُوح کی لَے ملتی ہے کہیں وقت کا بھید کھلتا ہے کہیں جمال کی جھلک محسوس ہوتی ہے اور کہیں ہجر کی سختیاں دل پر سوالات چھوڑ جاتی ہیں شاعر کے یہاں جدائی کوئی معمولی واردات نہیں یہ ایک مسلسل اندرونی حقیقت ہے جو جذبات اور فکر کے میلان سے لفظوں میں ڈھلتی ہے اور پھر انسان کی باطن گاہ میں اترتی ہے

یہ غزل صرف ایک غزل نہیں بلکہ عشق ہجر جمال جستجو اور روحانی اضطراب کا ایک روپ ہے ایسا روپ جو دیر تک ذہن میں بستا ہے اور احساس کی گہرائیوں میں چراغ روشن کرتا ہے

یہی ہے ذیشانؔ امیر سلیمی کا کمال کہ وہ محبت اور جدائی دونوں کو ایک شفاف آئینہ بناتے ہیں جہاں قاری کے دکھ بھی عکس پاتے ہیں اور اس کی امید بھی خود کو دیکھ لیتی ہے

یہ غزل ہجرنامہ کی روایت کو آگے بڑھاتی ہے جہاں الفاظ کے سفر میں درد بھی مہکا رہتا ہے اور جمال کی آنچ بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے ایسی شاعری ہی عہدوں کو پار کرتی ہے ایسی شاعری ہی دلوں پر دستک دیتی ہے اور وہیں اپنا گھر بنا لیتی ہے

یہ فن کی وہ پرواز ہے جو ذیشان امیر سلیمی کو معاصر شعرا میں ممتاز مقام دیتی ہے ان کا کلام کلاسیکی گہرائی اور جدید احساس کا حسین امتزاج ہے اور یہی امتزاج ان کی تخلیق کو زندہ رکھے گا ہمیشہ




#UrduAdab #UrduShaairi #GhazalLovers #ClassicalUrduPoetry #ModernUrduGhazal #PoetryOfSoul #PakistaniPoet #UrduWriters #IshqAurHijr #SufiPoetry #UrduAfsana #DilONazm #RangEAdab #KitabenBoltiHain #QalamKaSafar #HijrNama #ZeeshanAmeerSaleemi #NawaEHijrFoundation #UrduBookLovers #MashriqiAdab #AdabiSafar #LafzonKaJadoo #HeartfeltVerses #PoetryCommunity #PoetryRevolution #EhsasONazm #UrduGazal #ShaairONazm #IshqKaQissa #AdabiTareekh #GhazalKaSafar #SufiRuhaniyat #QalamAurDil #UrduLiteratureLovers #HunarOFikr #TrendingUrduPoetry #UrduMehfil #KitabiDuniya #LoveAndHijr #RuhaniNazm #SoulfulPoetry #AdabiBazm #ClassicalAndModern #GhazalDiary #AdabKeRang #DastaanEDil #ZehniSafar #FikrONazm #UrduKiPehchan


Comments

Popular posts from this blog

ذیشان امیر سلیمی کی غزل پر ایک کلاسیکی ادبی و فکری تبصرہ

Famous Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Ghazal