ذیشانؔ امیر سلیمی حیرت کی لَے میں ڈوبی ہوئی غزل کا شاعر

 




رخسار    پہ جھلکی ہے  ضِیا  کھینچ کے حیرت

آنکھوں نے کیا حُسن دعا کھینچ کے حیرت


اسرارِ ازل  پردۂ   امکان  میں چھپ کر

ہر رمز ہے معنی کی ادا کھینچ کے حیرت


پیمانۂ ہستی میں ترے لب کی ہے خوشبو

مے خانہ  بھی کرتا ہے  نوا  کھینچ کے حیرت


افکار کے طوفاں میں ترا نام ہے جگمگ

تصویر  ہے معنی   کی   بنا کھینچ کے حیرت


تقدیر  کے صحرا  میں ترا نقشِ کفِ پا

کرتا ہے مرا قافلہ را کھینچ کے حیرت


عالم  کے  اسرار  ترے  چشم  میں  ہیں  محو

افلاک بھی کرتے ہیں ادا کھینچ کے حیرت


گہوارۂ امواج  میں  خوابیدہ  ہے  صورت

دریا سے نکلتی ہے صدا کھینچ کے حیرت


ہر   ذرّہ  ترے حسن   کو تسلیم  کرے  ہے

خورشید ہے مٹی میں چھپا کھینچ کے حیرت


ذیشانؔ نے لکھ دی ہے غزل شوق سے آخر

اشعار  نے   کی     جاں  کو  وفا  کھینچ کے حیرت



ذیشانؔ امیر سلیمی  حیرت کی لَے میں ڈوبی ہوئی غزل کا شاعر
تحریر: کومل جین، ادبی قلمکار اور ناقد

یہ غزل، جو اپنے ہر شعر میں حیرت کی کیفیت کو جذبوں اور الفاظ کی رعنائی کے ساتھ پیش کرتی ہے، ذیشانؔ امیر سلیمی کے فن کی بلند پروازی کا ایک اور شاہکار نمونہ ہے ان کے یہاں الفاظ صرف کہے نہیں جاتے، وہ قاری کے دل میں عکس بن کر ٹھہر جاتے ہیں، اور یہی ان کی شاعری کی اصل شناخت ہے

شاعری کا آغاز ہی اس دلنواز منظر سے ہوتا ہے، جہاں حسن کی تابانی، حیرت کی چاشنی اور نظر کی عقیدت ایک ہو جاتی ہیں

رخسار پہ جھلکی ہے ضیا کھینچ کے حیرت
آنکھوں نے کیا حسن دعا کھینچ کے حیرت

یہ محض ظاہری حُسن کا بیان نہیں، بلکہ ایک روحانی واردات کی ترجمانی ہے جہاں دیدہ و دل دونوں ایک ہی کیفیت میں گم ہیں۔ شاعر کے ہاں حیرت، حسن کی معرفت کا نقطہ آغاز ہے

ایک اور شعر میں ذیشانؔ نے اسرار و رموزِ ازل کو جس لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے، وہ ان کے فکری گہرائی کا آئینہ دار ہے

اسرار ازل پردۂ امکان میں چھپ کر
ہر رمز ہے معنی کی ادا کھینچ کے حیرت

یہاں معنی اور اشارے، پردۂ امکان میں چھپے ہوئے سچ کی تلاش کا احوال سناتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک حیرت ہی وہ چشمہ ہے جس سے فہم اور وجود کا دریا بہتا ہے

پھر شاعر عشق کے پیمانے کی طرف رخ کرتا ہے

پیمانہ ہستی میں ترے لب کی ہے خوشبو
مے خانہ بھی کرتا ہے نوا کھینچ کے حیرت

یہاں زندگی کا پیمانہ، محبوب کے لب کی خوشبو سے مہکتا ہے اور مے خانہ بھی اپنی مستی میں حیرت کو نغمہ بنا کر پیش کرتا ہے  یہ احساس محض رومان نہیں، یہ عشق کی اعلیٰ ترین سطح پر گفتگو ہے

یہی تخیلاتی قوت پورے کلام میں روشنی بکھیرتی ہے، جیسے کہ اس شعر میں

تقدیر کے صحرا میں ترا نقش کف پا
کرتا ہے مرا قافلہ راہ کھینچ کے حیرت

یہاں محبوب کے قدموں کا نقش، صحرا نورد قافلے کا رہبر بن جاتا ہے  یہ عشق کی وہ منزل ہے جہاں حیرت اور راستہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں

آخر میں شاعر کا اعتراف اور فن کی بلندی دیکھنے لائق ہے

ذیشان نے لکھ دی ہے غزل شوق سے آخر
اشعار  نے  کی  جاں  کو  وفا  کھینچ  کے  حیرت

یہ وہی غزل ہے جس میں وفا اور شوق نے جذبوں کی نئی دنیا آباد کر دی ہے  ہر شعر قاری کے دل میں ایک نئی حیرت جگاتا ہے

ذیشانؔ امیر سلیمی، کلاسیکی اور جدید اردو غزل کو ایک نئی معنویت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں ان کی غزلیں ردیف قافیہ، بحر اور زبان کی روایتی نزاکت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنے رموز اور جذبوں کی وجہ سے عہدِ حاضر کی روح سے زندہ مکالمہ کرتی ہیں ان کی شاعری محض لفظوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ روح کا سفیر ہے




#UrduCulture #ModernUrduPoetry #PakistaniPoet #ClassicalUrduPoet #SufiPoetry #HeartfeltPoetry #UrduAdab #LoveAndHijr #PoetryOfSoul #TrendingUrduPoetry #غزل #اردو_شاعری #ہجرنامہ #شاعری_دوست #اردو_کلچر #ذیشان_سلیمی #نواۓ_ہجر #روحانی_اشعار #ادبی_ورثہ #اردو_کا_سفر #UrduGazal #Nawa_Hijr_Foundation #Zeeshan_Poetry #غزلیات #اردو_ادب #دیوان_اردو #HijrNama #NawaeHijrFoundation #ZeeshanAmeerSaleemi #GlobalUrduPoetry #UrduBookLovers #PoetryRevolution #InqalabiSheair #SufiInspiration #UrduLiteratureLovers #HunarOFikr #TrendsettersInUrdu #SoulfulVerses #BookishUrdu #UrduLegacy #WritersOfPakistan #ModernGhazal #PoetryCommunity #VoiceOfHijr #GhazalKaSafar #MashriqiAdab #ClassicalUrduPoetry #ModernUrduAdab #ZeeshanKiGhazal #HijrKeRang #AdabKaSilsila #ModernUrduGhazal #HunarOfHaqeeqat #UrduWriters #GlobalPoetryStage #HeartfeltGhazal #SufiSoul #LiteraryHeritage #HunarKaSafar #UrduSaga #PoeticWave #RangOHijr #UrduArtistry #SoulfulGazal #BazmEAdab #UrduPoetryWorld #ClassicToContemporary #PoetryResonance #VoiceOfAdab #UrduKoSalam



Comments

Popular posts from this blog

ذیشان امیر سلیمی کی غزل پر ایک کلاسیکی ادبی و فکری تبصرہ

Famous Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi

Zeeshan Ameer Saleemi Famous Ghazal