عشق ہوں، جلوۂ گفتار بھی کر سکتا ہوں
میں ترے ہجر کا اقرار بھی کر سکتا ہوں
تو نے سمجھا کہ میں مجبور ترے غم سے ہوں
میں تری ذات سے انکار بھی کر سکتا ہوں
اپنے ہی اشکوں کی تحریر سے، اے ناقدِ وقت
میں ترا ذکر گرفتار بھی کر سکتا ہوں
داورِ وقت! میں وہ شخص نہیں جو رُک جائے
حق کی تحریر کو گفتار بھی کر سکتا ہوں
میرے سینے میں اگر درد کا دریا ہے رواں
میں اسی موج کو پتوار بھی کر سکتا ہوں
تیری زلفوں میں چھپا خوابِ تمنا کا نشاں
میں تری شام کو بیدار بھی کر سکتا ہوں
تیری پلکوں پہ اگر نیند کا موسم ٹھہرے
میں تری نیند کا دیدار بھی کر سکتا ہوں
تیرے لب پر جو ٹھہر جائے مرا نام کبھی
میں تری دھڑکنوں کو پیار بھی کر سکتا ہوں
عشق ذیشانؔ ، اگر موجِ طلب بن جائے
راوی لاہور کا میں پار بھی کر سکتا ہوں
یہ غزل پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے گویا عشق اپنی تمام تر نرمی، شدت اور خودداری کے ساتھ سامنے کھڑا ہو، اور ذیشانؔ امیر سلیمی ہاتھ میں چراغِ سخن لیے، اس کی روشنی کو لفظوں میں ڈھال رہے ہوں یہ صرف غزل نہیں، جذبے کی وہ روانی ہے جو دل کی وادیوں میں اترتی ہے اور احساس کی گہرائیوں سے ہم کلام ہوتی ہے
غزل کی ابتداء ہی میں شاعر اپنے عشق کے جلال اور کمال کا اعلان کرتا ہے:
عشق ہوں جلوۂ گفتار بھی کر سکتا ہوں
میں ترے ہجر کا اقرار بھی کر سکتا ہوں
یہاں "عشق" صرف عشق نہیں، بلکہ ایک زندہ قوت ہے، جو اظہار بھی جانتی ہے اور اعتراف بھی اس خیال کو جس سادگی اور قوت سے بیان کیا گیا ہے وہ ذیشانؔ کی فکری گہرائی اور جذبۂ اظہار کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
اسی طرح:
تو نے سمجھا کہ میں مجبور ترے غم سے ہوں
میں تری ذات سے انکار بھی کر سکتا ہوں
یہاں شاعر کا لہجہ خودداری سے بھرا ہوا ہے غم کے حصار میں بند انسان کی وہ ضد اور وقار جو دل کو تھام کر کھڑا رکھتی ہے، اسے ذیشانؔ نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے
آگے چل کر:
میرے سینے میں اگر درد کا دریا ہے رواں
میں اسی موج کو پتوار بھی کر سکتا ہوں
یہ مصرعہ عشق کے حقیقی مزاج کو آشکار کرتا ہے۔ درد محض بوجھ نہیں، اگر دل حوصلہ رکھتا ہو تو یہی درد سفر کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے یہ سوچ عشق کو محض ماتم نہیں، بلکہ توانائی میں بدل دیتی ہے
اور آخری اشعار میں وہی عشق، وہی خودداری، مگر دل سوز نرمی کے ساتھ:
تیری پلکوں پہ اگر نیند کا موسم ٹھہرے
میں تری نیند کا دیدار بھی کر سکتا ہوں
اور پھر غزل کا کمال اختتام:
عشق ذیشانؔ اگر موجِ طلب بن جائے
راوی لاہور کا میں پار بھی کر سکتا ہوں
یہاں شاعر نے اپنی شناخت، اپنی دھرتی، اور عشق کی سمت سب ایک ساتھ جوڑ دی ہے عشق محض جذبات نہیں رہتا، بلکہ منزلوں کو پار کرنے کی قوت بن جاتا ہے
ذیشان امیر سلیمی کی یہ غزل عشق کی روایت کو عصرِ حاضر کے شعور میں جیتا جاگتا دکھاتی ہے فنی اعتبار سے بھی یہ غزل مکمل ہے ردیف اور قافیہ کا حسن، بحر کی روانی اور زبان کی چاشنی، سب مل کر اسے معنی خیز بنا دیتے ہیں
یہ غزل اردو غزل کی سرزمین پر ایک اہم سنگ میل ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عشق، اگرچہ پرانی کہانی ہے، مگر اس کی زبان آج بھی تازہ ہے اور ذیشانؔ اس کے بہترین قصہ گو ہیں۔

Comments
Post a Comment